دیہی علاقوں میں علاج کی تلاش: جہاں اسپتال نہیں وہاں چیٹ جی پی ٹی ہے
نوٹ: یہ مضمون اوپن اے آئی کی جانب سے شائع کردہ صحت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ کی بنیاد پر لکھا گیا ہے، اور یہ تین حصوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا حصہ ہے۔
امریکہ کے بڑے شہروں میں رہنے والے افراد کے لیے علاج تک رسائی مشکل ضرور ہے، مگر دیہی اور کم آبادی والے علاقوں میں یہ مسئلہ کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ طویل فاصلے، بند ہوتے اسپتال، محدود سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی نے لاکھوں افراد کو ایک ایسے مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بروقت علاج ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز خاموشی سے ایک متبادل سہارے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں چیٹ جی پی ٹی پر ہونے والی صحت سے متعلق 70 فیصد گفتگو عام کلینک اوقات سے باہر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس وقت معلومات تلاش کر رہے ہوتے ہیں جب اسپتال، کلینک یا ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔ یہی رجحان خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے، جہاں ہر ہفتے اوسطاً تقریباً چھ لاکھ صحت سے متعلق پیغامات چیٹ جی پی ٹی کو بھیجے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سہولت نہیں بلکہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔
امریکہ میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک فرد دیہی علاقوں میں رہتا ہے۔ ان علاقوں کی آبادی نسبتاً زیادہ عمر رسیدہ ہے اور یہاں قابلِ علاج بیماریوں اور قبل از وقت اموات کی شرح بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ سنہ 2010 کے بعد سے ہر سال اوسطاً دس دیہی اسپتال یا تو مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں یا پھر ایسے ماڈل میں تبدیل ہو جاتے ہیں جہاں مریضوں کو داخل کرنے کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اس صورتحال نے علاج تک رسائی کو مزید محدود کر دیا ہے۔
مالی مسائل اس بحران کو اور گہرا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے تقریباً 46 فیصد دیہی اسپتال خسارے میں چل رہے ہیں، جبکہ 38 ریاستوں میں موجود 400 سے زائد اسپتال بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہاں تک کہ جو اسپتال کھلے بھی ہیں، وہ زچگی، کیموتھراپی اور دیگر اہم خدمات فراہم کرنا بند کر چکے ہیں۔ ایسے میں مریضوں کو گھنٹوں کا سفر کر کے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
اوپن اے آئی نے اپنی رپورٹ میں ایسے علاقوں کو “ہسپتال ڈیزرٹس” قرار دیا ہے جہاں قریبی جنرل اسپتال تک پہنچنے میں 30 منٹ سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف چار ہفتوں کے ایک عرصے میں ان علاقوں سے چیٹ جی پی ٹی پر 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد صحت سے متعلق پیغامات بھیجے گئے۔ حیرت انگیز طور پر کم آبادی والی ریاستیں جیسے Wyoming، Oregon اور Montana اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں سہولیات کم ہیں، وہاں ڈیجیٹل رہنمائی کی طلب سب سے زیادہ ہے۔
ایسے حالات میں چیٹ جی پی ٹی لوگوں کو فوری تشخیص یا علاج تو فراہم نہیں کرتا، لیکن یہ انہیں علامات سمجھنے، خطرات پہچاننے، سوالات تیار کرنے اور اگلے قدم کا فیصلہ کرنے میں ضرور مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت یا ہنگامی صورتحال میں، جب کوئی طبی ماہر دستیاب نہیں ہوتا، تو یہ معلومات لوگوں کے لیے بروقت فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
رپورٹ میں Montana کے ایک چھوٹے سے شہر Miles City کی مثال بھی دی گئی ہے، جہاں آبادی صرف 8,400 افراد پر مشتمل ہے۔ وہاں ایک فیملی فزیشن ڈاکٹر مارگی البرز، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز استعمال کر کے نہ صرف مریضوں کے نوٹس تیار کرتی ہیں بلکہ اپنا قیمتی وقت کاغذی کارروائی کے بجائے مریضوں پر صرف کر پاتی ہیں۔ ایسے دیہی علاقوں میں، جہاں ایک ہی ڈاکٹر پوری کمیونٹی کی ذمہ داری اٹھا رہا ہوتا ہے، یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔
یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت بند اسپتالوں کو دوبارہ نہیں کھول سکتی اور نہ ہی غائب ہو جانے والی طبیکی خدمات کی جگہ لے سکتی ہے۔ تاہم، یہ ضرور کر سکتی ہے کہ لوگوں کو معلومات، تیاری اور اعتماد فراہم کرے تاکہ وہ کم وسائل میں بہتر فیصلے کر سکیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
جب دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہوں، مالی دباؤ کا شکار ہوں اور بروقت رہنمائی سے محروم ہوں، تو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو ان کی زبان میں بات کرے، ان کے سوالات سنے اور انہیں اگلے قدم کے لیے تیار کرے، ایک حقیقی سہارا بن جاتا ہے۔ اسی لیے رپورٹ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ محروم علاقوں میں مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ علاج تک رسائی کی ایک نئی شکل بنتی جا رہی ہے۔
یہ سیریز کا دوسرا حصہ اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ جہاں اسپتال نہیں، وہاں بھی لوگ مکمل طور پر بے یار و مددگار نہیں ہیں۔ معلومات، سمجھ بوجھ اور بروقت رہنمائی اگر دستیاب ہو، تو فاصلوں اور محرومیوں کے باوجود علاج کی امید زندہ رہ سکتی ہے۔


No Comments