-
Miraj Roonjha
- No Comments
- Ai music, artists and AI, Eleven Album, future of music, music and technology
دی ایلیون البم : فنکار مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کو کیسے دیکھتے ہیں؟
یہ وہ دور ہے جب موسیقی صرف سازوں اور آوازوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی بھی اس کے سفر کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت فنکاروں کے لیے خطرہ بنے گی یا ان کے لیے نئے راستے کھولے گی۔ اسی پس منظر میں جنوری 2026 میں ElevenLabs کی جانب سے پیش کیا گیا دی ایلیون البم سامنے آیا، جسے موسیقی اور مصنوعی ذہانت کے تعلق کی ایک عملی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دی ایلیون البم کو ایک عام میوزیکل ریلیز کہنا شاید درست نہ ہو، کیونکہ اس کا مقصد صرف نئے گانے پیش کرنا نہیں بلکہ یہ دکھانا بھی ہے کہ انسان اور مشین مل کر تخلیق کے عمل کو کس طرح آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار اور نئے فنکار شامل ہوئے، جنہوں نے مصنوعی ذہانت کو ایک تخلیقی ساتھی کے طور پر استعمال کیا۔ اس البم میں ریپ، پاپ، آر اینڈ بی، الیکٹرانک ڈانس میوزک، فلمی موسیقی اور مختلف عالمی آوازیں شامل ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ ٹیکنالوجی کسی ایک صنف یا ثقافت تک محدود نہیں۔
کمپنی کے مطابق، اس البم میں شامل تمام گانے مکمل طور پر نئے اور اصل ہیں۔ یہاں نہ تو کسی پرانی دھن کی نقل کی گئی ہے اور نہ ہی کسی معروف گلوکار کی آواز کو بغیر اجازت استعمال کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ایلیون میوزک نامی نظام استعمال کیا گیا، جو چند سادہ ہدایات کی بنیاد پر مکمل موسیقی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ، آواز کا انداز اور تخلیقی سمت ہمیشہ فنکار کے ہاتھ میں رہی، جبکہ ٹیکنالوجی نے صرف رفتار اور امکانات میں اضافہ کیا۔
دی ایلیون البم میں شامل فنکاروں کی فہرست خود اس منصوبے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان میں Liza Minnelli شامل ہیں، جو کئی دہائیوں سے موسیقی اور تھیٹر کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس تجربے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ نئی ٹیکنالوجی نے فنکار کی آواز اور اس کی مرضی کو مکمل احترام دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں تخلیق کار اکثر اپنی ہی تخلیق کے مالک نہیں ہوتے تھے، لیکن اس نئے ماڈل کے ذریعے تخلیق اور ملکیت دونوں کو ایک ساتھ ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسی طرح Art Garfunkel نے بھی اس منصوبے میں حصہ لیا۔ ان کے نزدیک موسیقی ہمیشہ وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے، چاہے وہ مائیکروفون کی ایجاد ہو یا ریکارڈنگ کے نئے طریقے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو مرکز میں رکھا جائے۔ ان کے تجربے میں اس منصوبے نے یہی توازن برقرار رکھا، جہاں ٹیکنالوجی نے صرف ایک نیا راستہ کھولا، فیصلہ انسان نے ہی کیا۔
یہ البم صرف امریکہ یا یورپ تک محدود نہیں رہا۔ برازیل سے تعلق رکھنے والا معروف پلیٹ فارم KondZilla بھی اس منصوبے کا حصہ بنا، جس کے یوٹیوب پر اربوں ویوز ہیں۔ ان کے تجربے میں برازیلین فنک کے عناصر کو انگریزی ٹریپ اور آر اینڈ بی کے انداز میں ڈھالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل میں موسیقی کے معیار نے انہیں حیران کیا اور مستقبل میں وہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے مزید تجربات کے خواہشمند ہیں۔
دی ایلیون البم میں شامل دیگر فنکار بھی مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ کچھ فلم اور ٹی وی کے لیے موسیقی بناتے رہے ہیں، کچھ پاپ اور انڈی موسیقی سے وابستہ ہیں، جبکہ کچھ نئے تخلیق کار ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ ان سب کے تجربات مختلف تھے، لیکن ایک بات مشترک رہی کہ مصنوعی ذہانت کو انہوں نے اپنے مقابل نہیں بلکہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔ کسی کے لیے یہ ابتدائی خیال فراہم کرنے کا ذریعہ بنی، کسی کے لیے نئے انداز آزمانے کا موقع، اور کسی کے لیے تخلیقی عمل کو تیز کرنے کا ایک طریقہ۔
اس منصوبے کے ساتھ حقوق اور ملکیت کا سوال بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔ موسیقی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ یہی رہا ہے کہ کہیں فنکاروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ ElevenLabs کا کہنا ہے کہ اسی خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے موسیقی کی صنعت کے اداروں اور ماہرین کے ساتھ مل کر یہ نظام تیار کیا۔ اس مقصد کے لیے Kobalt Music اور Merlin جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی گئی، تاکہ گیت نگاروں، پروڈیوسرز اور آزاد لیبلز کے مفادات محفوظ رہیں۔
کمپنی نے ایک اجازت پر مبنی پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے، جہاں معروف فنکار اپنی آواز، انداز یا موسیقی شناخت کو مخصوص اور منظور شدہ منصوبوں کے لیے لائسنس دے سکتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار اپنی پہچان کو اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کرنا چاہے تو وہ اپنی شرائط اور مرضی کے مطابق ایسا کر سکے۔ اس طریقے سے شفافیت اور اعتماد دونوں کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایلیون میوزک کی ٹیکنالوجی کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ فنکار مکمل کمپوزیشن بنا سکے، اس میں باریک تبدیلیاں کر سکے اور مختلف حصوں کو الگ الگ ڈاؤن لوڈ کر کے مزید بہتر انداز میں مکسنگ اور ترتیب دے سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تخلیقی عمل کو محدود کرنے کے بجائے اسے مزید کھولا جائے اور فنکار کو زیادہ کنٹرول فراہم کیا جائے۔
دی ایلیون البم کو موسیقی کے مستقبل کی ایک جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو واضح اصولوں اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ فنکاروں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع بن سکتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں موسیقی کی تخلیق صرف ایک اسٹوڈیو یا ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود تخلیق کار ایک ہی پلیٹ فارم پر مل کر کام کر سکیں گے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دی ایلیون البم محض گانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچ ہے، جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آواز کا مستقبل کیسا ہو سکتا ہے۔ یہ البم سننے والوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خود سن کر فیصلہ کریں کہ جب انسان اور مصنوعی ذہانت مل کر کام کریں تو تخلیق کی دنیا کس حد تک وسیع ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں موسیقی کے منظرنامے پر مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
Share this:
- Click to share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Click to share on X (Opens in new window) X
- Click to email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Click to share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Click to share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Click to share on Threads (Opens in new window) Threads
- Click to share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
No Comments