Veo 3.1 تصاویر کو ویڈیو میں بدلنے والی ٹیکنالوجی میں بہتری
گوگل ڈیپ مائنڈ نے اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو بنانے والی ٹیکنالوجی میں نمایاں بہتری کا اعلان کیا ہے جو عام لوگوں سے لے کر پیشہ ور فلم سازوں تک سب کے لیے دلچسپ امکانات لے کر آئی ہے۔ Veo 3.1 نامی یہ نیا ورژن اب تصاویر کی بنیاد پر زیادہ جاندار اور حقیقت پسند ویڈیوز بنا سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کسی بھی تصویر کو اس میں ڈال کر اسے حرکت میں لا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس کسی کردار کی تصویر ہے تو یہ سسٹم اسے ایک زندہ ویڈیو میں تبدیل کر سکتا ہے جہاں وہ کردار بات چیت کرتا، حرکت کرتا اور مختلف جذبات کا اظہار کرتا نظر آئے گا۔
کمپنی کے مطابق اب صارفین کو طویل اور پیچیدہ ہدایات دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ مختصر سی رہنمائی سے بھی دلچسپ اور متحرک ویڈیوز تیار ہو سکتی ہیں۔ یہ خاصیت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو سوشل میڈیا کے لیے مواد تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن ٹیکنیکل پیچیدگیوں سے واقف نہیں، نئے ورژن میں کرداروں کی شناخت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت میں خاصی بہتری آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ایک کردار کو مختلف مناظر میں دکھانا چاہتے ہیں تو وہ ہر جگہ یکساں نظر آئے گا۔ یہ خصوصیت کہانی سنانے والوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے انہیں ایک مکمل کہانی بیان کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اسی طرح پس منظر اور اشیاء کی مستقل مزاجی بھی بہتر ہو گئی ہے۔ آپ کسی خاص جگہ یا چیز کو مختلف ویڈیوز میں استعمال کر سکتے ہیں اور وہ ہر بار ایک جیسی نظر آئے گی۔ مزید برآں، یہ سسٹم اب مختلف عناصر کو ملا کر ایک مربوط ویڈیو بنا سکتا ہے، چاہے وہ کردار ہوں، اشیاء ہوں یا مختلف انداز کے پس منظر۔
موبائل فون پر ویڈیوز دیکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے Veo 3.1 اب عمودی شکل میں ویڈیوز بنا سکتا ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر یوٹیوب شارٹس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے مواد تیار کرنے والوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اب انہیں ویڈیو کو کاٹنے یا معیار کھونے کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔
پیشہ ور استعمال کے لیے کمپنی نے اعلیٰ معیار کی سہولیات بھی متعارف کروائی ہیں۔ نیا سسٹم ویڈیوز کو 1080p اور 4K ریزولوشن میں تیار کر سکتا ہے جو نشریاتی معیار کے مطابق ہیں۔ یہ خصوصیت ان لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے جو بڑی سکرینوں پر دکھانے کے لیے یا پیشہ ورانہ پروڈکشن کے لیے ویڈیوز بناتے ہیں۔
گوگل نے یہ سہولیات اپنی مختلف مصنوعات میں شامل کر دی ہیں۔ عام صارفین جیمنی ایپ اور یوٹیوب میں ان خصوصیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ کاروباری اور پیشہ ور صارفین کے لیے یہ مختلف دیگر پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہو گئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز کی شناخت کے لیے گوگل نے ایک خاص نظام متعارف کروایا ہے۔ ان کی بنائی ہوئی تمام ویڈیوز میں SynthID نامی ایک غیر مرئی نشان لگایا جاتا ہے۔ جیمنی ایپ میں صارفین کسی بھی ویڈیو کو اپ لوڈ کر کے پوچھ سکتے ہیں کہ آیا یہ گوگل کی مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے یا نہیں۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں شفافیت کو فروغ دینا ہے تاکہ لوگ حقیقی اور مصنوعی مواد میں فرق کر سکیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اب یہ تخلیقی میدان میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ذمہ داری سے کام لینا بھی ضروری ہے تاکہ اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
Muhammad Shahzad
یقیناً جدید دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا ہوگا اور حقیقت کو فروغ دیاجائے گا