-
Miraj Roonjha
- No Comments
- AI wearable, apple ai, Apple innovation, future devices, wearable technology
ایپل کا اے آئی پن کیا ہے اور یہ کب متعارف ہوسکتا ہے؟
یہ خبر بظاہر ایک سادہ سی ٹیکنالوجی اپ ڈیٹ لگتی ہے، لیکن درحقیقت یہ اس سمت کی نشاندہی کرتی ہے جس طرف ایپل اور مجموعی طور پر ٹیکنالوجی کی دنیا بڑھ رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایپل ایک ایسے ننھے، پہننے کے قابل آلے پر کام کر رہا ہے جو بظاہر ایک عام پن یا بیج جیسا دکھائی دے گا، مگر اس کے اندر مصنوعی ذہانت پر مبنی صلاحیتیں موجود ہوں گی۔ اس آلے کو عارضی طور پر “ایپل پن” کہا جا رہا ہے اور رپورٹ کے مطابق اسے 2027 تک متعارف کرایا جا سکتا ہے، اگرچہ اس منصوبے کے منسوخ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ معلومات ٹیکنالوجی کی دنیا میں معتبر سمجھے جانے والے ادارے The Information کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ پن سائز میں ایپل کے ایئر ٹیگ جتنا ہو سکتا ہے، بس تھوڑا سا موٹا۔ شکل کے لحاظ سے یہ ایک پتلا، چپٹا اور گول ڈسک نما آلہ ہوگا جس کے اوپر ایلومینیم اور شیشے کی تہہ ہوگی۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا پن نظر آئے گا، لیکن اس کے اندر ایسے فیچرز ہوں گے جو اسے عام پہننے کے قابل ڈیوائسز سے بالکل مختلف بنا دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پن میں دو کیمرے ہوں گے، جن میں ایک عام لینس اور دوسرا وائڈ اینگل لینس ہوگا۔ ان کیمروں کا مقصد صارف کے اردگرد کے ماحول، لوگوں اور مناظر کو محفوظ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں تین مائیکروفون لگے ہوں گے تاکہ آس پاس کی آوازیں صاف انداز میں ریکارڈ کی جا سکیں۔ آلے میں ایک اسپیکر بھی شامل ہوگا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پن صرف تصویر یا ویڈیو لینے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ آواز کے ذریعے صارف سے بات چیت بھی کر سکے گا۔
ایپل پن میں ایک فزیکل بٹن بھی ہوگا، یعنی ایسا بٹن جسے انگلی سے دبایا جا سکے گا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایپل اس آلے کو مکمل طور پر اسکرین کے بغیر رکھنا چاہتا ہے، جہاں صارف اشاروں، آواز یا بٹن کے ذریعے اس سے رابطہ کرے گا۔ چارجنگ کے لیے اس پن کے پچھلے حصے میں مقناطیسی نظام ہوگا، جو ایپل واچ میں استعمال ہونے والے نظام سے ملتا جلتا ہے۔ یعنی صارف اسے کسی تار کے بغیر آسانی سے چارج کر سکے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آلے کی تیاری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ایپل کے اندر اس پر کام تو ہو رہا ہے، لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ یہ پروڈکٹ واقعی مارکیٹ میں آئے گی یا نہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ کئی منصوبے تجرباتی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ تاہم، اس بار ایک اہم وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ ایپل اس منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے ممکنہ حریفوں سے پیچھے نہ رہ جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کی کوشش ہے کہ وہ اس میدان میں اوپن اے آئی جیسے اداروں سے پہلے قدم جما لے، جو 2026 میں اپنا پہلا پہننے کے قابل اے آئی ڈیوائس متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایپل پن محض ایک نیا گیجٹ نہیں بلکہ آنے والی ٹیکنالوجی کی دوڑ کا حصہ ہے، جہاں کمپنیاں اس بات پر کام کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ پن کیسے استعمال ہوگا۔ کیا یہ آئی فون یا ایئر پوڈز کے ساتھ جڑا ہوگا؟ کیا یہ ایپل کے مستقبل کے سمارٹ چشموں کے ساتھ کام کرے گا؟ رپورٹ میں ان سوالات کے واضح جواب نہیں ملتے، لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ایپل مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔ ایپل کی تاریخ دیکھیں تو وہ شاذ و نادر ہی کوئی ایسی پروڈکٹ لانچ کرتا ہے جو مکمل طور پر اکیلی ہو۔ اکثر اس کی ڈیوائسز ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں اور مل کر ایک مکمل نظام بناتی ہیں۔
یہ پن ایک اور بحث کو بھی جنم دیتا ہے، اور وہ ہے پرائیویسی۔ اگر کوئی ایسا آلہ مسلسل کیمرے اور مائیکروفون کے ساتھ صارف کے لباس پر لگا ہو تو اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اردگرد موجود لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر یا آوازیں محفوظ تو نہیں ہو رہیں؟ ایپل ماضی میں خود کو پرائیویسی کے تحفظ کا علمبردار قرار دیتا رہا ہے، اس لیے امکان یہی ہے کہ اگر یہ پن مارکیٹ میں آیا تو اس میں پرائیویسی کے حوالے سے خاص حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں گے۔ لیکن یہ بحث بہرحال ختم نہیں ہوگی۔
غیر تکنیکی صارف کے لیے اس پن کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا چھوٹا سا ساتھی ہوگا جو آپ کے اردگرد ہونے والی چیزوں کو دیکھ اور سن سکے گا، اور پھر مصنوعی ذہانت کی مدد سے آپ کو معلومات فراہم کرے گا۔ مثلاً آپ کسی جگہ جائیں اور پوچھیں کہ یہ عمارت کیا ہے، یا آپ کے سامنے کوئی چیز ہو اور آپ اس کے بارے میں جاننا چاہیں، تو یہ پن شاید آپ کی مدد کر سکے۔ یہ تصور کسی حد تک سائنس فکشن جیسا لگتا ہے، لیکن پچھلے چند برسوں میں ٹیکنالوجی نے ثابت کیا ہے کہ جو چیزیں کبھی تصور لگتی تھیں، وہ جلد حقیقت بن جاتی ہیں۔
ایپل کے اس ممکنہ پن کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہماری جیبوں سے نکل کر ہمارے لباس اور جسم کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ پہلے گھڑی، پھر ہیڈ فونز، اور اب پن یا بیج جیسی ڈیوائسز۔ یہ تبدیلی نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کے انداز کو بدل رہی ہے بلکہ ہمارے سماجی رویوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔
فی الحال یہ سب ایک رپورٹ اور امکانات کی حد تک ہے۔ ایپل نے خود اس پن کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ لیکن اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ڈیوائس اس سوال کو مزید گہرا کر دے گی کہ ہم مصنوعی ذہانت کے ساتھ کس حد تک جینا چاہتے ہیں، اور ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی میں کہاں تک جگہ دینا چاہتے ہیں۔ ایپل پن شاید صرف ایک نیا گیجٹ نہ ہو بلکہ آنے والے دور کی ایک جھلک ہو، جہاں ٹیکنالوجی خاموشی سے ہمارے ساتھ لگی ہوگی، ہمیں دیکھ رہی ہوگی، سن رہی ہوگی اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہوگی۔
Share this:
- Click to share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Click to share on X (Opens in new window) X
- Click to email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Click to share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Click to share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Click to share on Threads (Opens in new window) Threads
- Click to share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
No Comments