چیٹ جی پی ٹی کا نیا ٹول پریزم کیا ہے
سائنس ہماری روزمرہ زندگی کا ایک خاموش مگر طاقتور حصہ ہے۔ ہم جو دوائیں استعمال کرتے ہیں، جس بجلی سے ہمارے گھر روشن ہوتے ہیں، اور وہ نظام جو ہمیں محفوظ رکھتے ہیں، سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں سائنسی تحقیق کارفرما ہوتی ہے۔ مگر جتنا تیز رفتار دنیا بدل رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے سائنس کا آگے بڑھنا اب بھی ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تحقیق کرنے کے طریقے، خاص طور پر لکھنے، سوچنے اور مل کر کام کرنے کے اوزار، کئی دہائیوں سے تقریباً ویسے ہی ہیں۔ ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت نے سافٹ ویئر، تعلیم اور کاروبار کے انداز بدل دیے ہیں، سائنس دان آج بھی اکثر ایسے ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو بکھرے ہوئے، پیچیدہ اور وقت ضائع کرنے والے ہیں۔
اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا ہے جس کا نام پریزم (Prism) ہے۔ یہ ایک ایسا ڈیجیٹل ورک اسپیس ہے جو خاص طور پر سائنس دانوں اور محققین کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ وہ تحقیق لکھ سکیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر سکیں اور اپنے خیالات کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔ پریزم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ابتدا سے ہی مصنوعی ذہانت کو مرکز میں رکھ کر بنایا گیا ہے، اور اس میں GPT-5.2 جیسا جدید ماڈل براہِ راست شامل ہے۔
عام قاری کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پریزم کوئی عام چیٹ بوٹ یا تحریر لکھنے والا ٹول نہیں۔ یہ دراصل ایک ایسی جگہ ہے جہاں سائنس دان اپنا پورا تحقیقی کام ایک ہی جگہ انجام دے سکتے ہیں۔ ماضی میں اکثر محققین کو ایک مقالہ لکھنے کے لیے کئی مختلف سافٹ ویئر استعمال کرنا پڑتے تھے۔ کہیں متن لکھا جا رہا ہوتا، کہیں ریفرنسز سنبھالے جاتے، کہیں مساوات بنائی جاتیں اور کہیں الگ سے کسی اے آئی ٹول سے مدد لی جاتی۔ اس پورے عمل میں توجہ بٹتی، وقت ضائع ہوتا اور اکثر کام کی رفتار سست پڑ جاتی۔
پریزم اس بکھراؤ کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ ایک کلاؤڈ پر مبنی پلیٹ فارم ہے، یعنی اسے استعمال کرنے کے لیے کسی خاص کمپیوٹر یا مشکل انسٹالیشن کی ضرورت نہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے محققین کہیں سے بھی لاگ اِن ہو سکتے ہیں اور اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پریزم میں اے آئی کسی باہر کے مشیر کی طرح نہیں بلکہ اسی دستاویز کا حصہ بن کر کام کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ مقالے کا ڈھانچہ کیا ہے، کہاں کون سی مساوات ہے، کون سا حوالہ دیا گیا ہے اور بحث کس سمت میں جا رہی ہے۔
یہ پلیٹ فارم دراصل ایک پہلے سے موجود LaTeX سسٹم پر بنایا گیا ہے، جو دنیا بھر میں سائنسی تحریر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اوپن اے آئی نے اس بنیاد کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پریزم کو ایک مکمل، جدید اور اے آئی سے لیس ماحول میں بدل دیا۔ اب محققین نہ صرف اپنا مقالہ لکھ سکتے ہیں بلکہ اسی دوران اے آئی سے سوال بھی کر سکتے ہیں، دلائل کو جانچ سکتے ہیں اور پیچیدہ خیالات کو سادہ انداز میں پرکھ سکتے ہیں۔
پریزم کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ مل کر کام کرنے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ سائنسی تحقیق عموماً اکیلے نہیں ہوتی۔ اس میں اساتذہ، طلبہ، ساتھی محققین اور کبھی کبھی مختلف ممالک کے ادارے شامل ہوتے ہیں۔ پریزم میں کسی حد کے بغیر ساتھیوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ سب ایک ہی دستاویز پر بیک وقت کام کر سکتے ہیں، تبدیلیاں فوراً نظر آتی ہیں اور فائلوں کے مختلف ورژن بنانے کی جھنجھٹ ختم ہو جاتی ہے۔
یہ سہولت خاص طور پر نوجوان محققین اور طلبہ کے لیے اہم ہے، جن کے پاس مہنگے سافٹ ویئر یا پیچیدہ نظام سیکھنے کا وقت اور وسائل نہیں ہوتے۔ پریزم کو مفت رکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ سائنس تک رسائی صرف چند اداروں یا ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگ تحقیق کے عمل کا حصہ بن سکیں۔
پریزم میں شامل اے آئی محض الفاظ کو بہتر بنانے تک محدود نہیں۔ یہ مساوات کو سمجھ سکتا ہے، ان میں بہتری تجویز کر سکتا ہے، اور یہ بھی بتا سکتا ہے کہ کسی حساب کا تعلق مقالے کے باقی حصوں سے کیسے جڑتا ہے۔ اگر کسی محقق کے پاس کاغذ پر بنی ہوئی مساوات یا ڈایاگرام ہو تو پریزم اسے براہِ راست LaTeX میں تبدیل کر سکتا ہے، جو پہلے کئی گھنٹوں کا کام ہوا کرتا تھا۔
ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پریزم میں آواز کے ذریعے بھی سادہ تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ یعنی اگر کوئی محقق لکھتے لکھتے رکنا نہ چاہے تو وہ بول کر اے آئی کو ہدایت دے سکتا ہے، اور دستاویز میں تبدیلی ہو جائے گی۔ یہ سہولت بظاہر چھوٹی لگتی ہے، مگر طویل تحقیقی کام میں یہ توجہ اور تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
پریزم کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ سائنس کی رفتار صرف نئی دریافتوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے چھوٹے کاموں کو آسان بنانے سے بھی تیز ہو سکتی ہے۔ جب محققین کو کم وقت فارمیٹنگ، فائل سنبھالنے اور تکنیکی رکاوٹوں میں لگانا پڑے گا تو وہ زیادہ وقت اصل سوالات، تجربات اور خیالات پر دے سکیں گے۔
اوپن اے آئی کے مطابق، جس طرح 2025 میں اے آئی نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے طریقے بدل دیے، اسی طرح 2026 میں سائنس کے میدان میں بھی ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ پریزم اس سمت میں ایک ابتدائی قدم ہے۔ یہ نہ تو سائنس دانوں کی جگہ لے رہا ہے اور نہ ہی انسانی سوچ کو ختم کر رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد انسانی ذہن کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پریزم کے استعمال کے باوجود انسانی نگرانی اور فیصلہ سازی ضروری سمجھی گئی ہے۔ یہ ٹول کسی حتمی سچ کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ محقق کو بہتر سوال پوچھنے، بہتر دلائل دینے اور زیادہ منظم انداز میں سوچنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے تحقیق کے مستقبل کی ایک جھلک کہا جا رہا ہے، نہ کہ اس کا مکمل جواب۔
مجموعی طور پر پریزم ایک ایسی کوشش ہے جو سائنس کو زیادہ کھلا، تیز اور باہمی بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو صحت، ماحول اور توانائی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تحقیق کے عمل کو بہتر بنانا خود ایک اہم سائنسی قدم ہے۔ پریزم اسی سمت میں ایک خاموش مگر معنی خیز تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جو آنے والے برسوں میں سائنس لکھنے اور سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔
اگر یہ ٹول اپنے وعدوں پر پورا اترتا ہے تو ممکن ہے کہ مستقبل میں سائنس دان کم وقت فائلوں سے لڑنے اور زیادہ وقت نئی دریافتوں پر لگائیں۔ اور شاید یہی وہ تبدیلی ہے جس کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
No Comments