جیمنی ۳ ہیکاتھون کیا ہے اور اس سے عام لوگوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے
مصنوعی ذہانت کا نام سنتے ہی بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کوئی مشکل، بھاری اور صرف کمپیوٹر ماہرین کی چیز ہے۔ عام آدمی اکثر یہ سوچتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا اس کی روزمرہ زندگی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ عام لوگوں کے مسائل حل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اسی سوچ کے تحت Google DeepMind نے جیمنی تھری عالمی ہیکاتھون متعارف کرایا ہے، جس میں دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ نئی ایپس بنا کر دکھائیں، ایسی ایپس جو صرف باتیں نہ کریں بلکہ واقعی کام آئیں۔
یہ ہیکاتھون دراصل ایک عالمی مقابلہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی بھی ملک یا شہر سے اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہاں یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ شریک ہونے والا لازمی طور پر ماہر پروگرامر ہو یا برسوں سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کر رہا ہو۔ منتظمین کے مطابق اگر کوئی شخص پہلی بار بھی کوئی ایپ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ بھی اس مقابلے میں شامل ہو سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کا خیال نیا ہو اور وہ کسی حقیقی مسئلے کو آسان بنانے کی کوشش کرے۔
غیر تکنیکی زبان میں ایپ سے مراد وہی چیز ہے جو ہم سب روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر موبائل میں نقشہ دیکھنے والی ایپ، نوٹس لکھنے والی ایپ، یا تصویریں سنبھالنے والی ایپ۔ جیمنی تھری ہیکاتھون میں بھی شرکا سے یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسی ایپ بنائیں جو لوگوں کے کسی عام مسئلے کو حل کرے۔ یہ مسئلہ گھر کے خرچ کا حساب ہو سکتا ہے، بچوں کی پڑھائی ہو سکتی ہے، دفتر کے کاموں کی فہرست ہو سکتی ہے یا کسی موضوع کو آسان زبان میں سمجھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے مطابق جیمنی تھری میں خاص طور پر تین باتوں پر توجہ دی گئی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ سوال یا مسئلہ سمجھ کر ترتیب کے ساتھ جواب دے سکتا ہے۔ یعنی یہ صرف ایک جملہ نہیں بولتا بلکہ مرحلہ وار بات سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ صرف لکھے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ تصویر اور آواز جیسی چیزوں سے بھی بات سمجھ سکتا ہے۔ تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ یہ تیزی سے جواب دیتا ہے، جس سے ایپ استعمال کرنے والے کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ عام قاری کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایپ زیادہ سمجھدار محسوس ہوتی ہے اور وقت بھی بچاتی ہے۔
اس ہیکاتھون میں نئی ایپ کی شرط پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی پرانی ایپ اٹھا کر اس میں معمولی سی تبدیلی کر کے جمع کرانا کافی نہیں ہو گا۔ منتظمین چاہتے ہیں کہ لوگ اس موقع پر کچھ نیا سوچیں اور نیا بنائیں۔ اس شرط کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ نئے آنے والے لوگ خود کو پیچھے محسوس نہیں کرتے، کیونکہ سب کو ایک ہی جگہ سے آغاز کرنا ہوتا ہے۔ یوں یہ مقابلہ تجربہ کار اور نئے دونوں لوگوں کے لیے یکساں موقع فراہم کرتا ہے۔
انعامات کی بات کی جائے تو یہی وہ پہلو ہے جو بہت سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس ہیکاتھون میں مجموعی طور پر ایک لاکھ امریکی ڈالر کے انعامات رکھے گئے ہیں۔ پہلے نمبر پر آنے والے کو پچاس ہزار ڈالر، دوسرے کو بیس ہزار اور تیسرے کو دس ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دس لوگوں کو اعزازی انعام کے طور پر دو دو ہزار ڈالر ملیں گے۔ منتظمین کے مطابق جیتنے والے منصوبوں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کیا جائے گا اور کچھ شرکا کو مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
جج فیصلہ کیسے کریں گے، یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں آتا ہے۔ اس مقابلے میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ ایپ واقعی چلتی ہے یا نہیں۔ یعنی جب کوئی عام صارف اسے کھولے تو وہ آسانی سے کام کرے اور سمجھ میں آئے۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ ایپ لوگوں کے کتنے کام آ سکتی ہے اور اس کا فائدہ کتنا وسیع ہو سکتا ہے۔ پھر یہ جانچا جائے گا کہ خیال کتنا نیا ہے اور مسئلہ حل کرنے کا طریقہ کتنا مختلف ہے۔ آخر میں یہ دیکھا جائے گا کہ ایپ کو کتنی صاف اور آسان زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
جمع کرانے کا طریقہ بھی عام لوگوں کے لیے قابلِ فہم رکھا گیا ہے۔ شرکا کو اپنی ایپ کے بارے میں ایک مختصر تحریر دینی ہوتی ہے، جس میں یہ بتایا جائے کہ جیمنی تھری نے اس ایپ میں کیا خاص کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ایک عوامی لنک دینا ہوتا ہے، جہاں جج ایپ یا اس کا ڈیمو خود دیکھ سکیں۔ اس کے ساتھ تقریباً تین منٹ کی ایک ویڈیو بھی جمع کرانی ہوتی ہے، جس میں دکھایا جاتا ہے کہ ایپ کیسے کام کرتی ہے اور یہ مسئلہ کیسے حل کرتی ہے۔
یہ تین منٹ کی ویڈیو دراصل ایک چھوٹی سی کہانی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے مسئلہ سامنے رکھا جاتا ہے، پھر حل دکھایا جاتا ہے، اور آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ حل کیوں اہم ہے۔ یہاں مشکل الفاظ یا لمبی تکنیکی تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سادہ زبان، واضح مثالیں اور صاف انداز زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ سوچ کر رک جاتے ہیں کہ انہیں کوئی بہت بڑا یا انوکھا خیال چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزمرہ کے چھوٹے مسائل بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایسی ایپ جو خریداری کی فہرست کو خود ترتیب دے دے، یا ایک ایسی ایپ جو بچوں کے سوالات کو آسان مثالوں کے ساتھ سمجھا دے، یا ایک ایسی ایپ جو بکھرے ہوئے نوٹس کو ایک صاف خلاصے میں بدل دے۔ ایسے حل عام لوگوں کے لیے بھی قابلِ فہم ہوتے ہیں اور ججوں پر بھی اچھا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جیمنی تھری ہیکاتھون کو صرف ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں بلکہ عام لوگوں کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش بھی کہا جا رہا ہے۔ Google اور اس کی تحقیقی ٹیم یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف لیبارٹریوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے عام زندگی کا حصہ بننا چاہیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہیکاتھون صرف انعام جیتنے کا موقع نہیں بلکہ کچھ نیا سیکھنے، آزمانے اور خود پر اعتماد بڑھانے کا راستہ بھی ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں کوئی ایسا مسئلہ ہے جس کا حل وہ ہمیشہ چاہتا رہا ہے، تو جیمنی تھری عالمی ہیکاتھون اس خیال کو حقیقت میں بدلنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ شاید کامیابی ملے، شاید نہ ملے، لیکن اس عمل میں حاصل ہونے والا تجربہ آگے چل کر ضرور کام آتا ہے، اور یہی اس پوری کوشش کا اصل مقصد ہے۔
No Comments