یونیسف کی رپورٹ کی روشنی میں: مصنوعی ذہانت اور بچے
حصہ دوم:
یہ مضمون مصنوعی ذہانت اور بچوں سے متعلق یونیسف کی عالمی رپورٹ کے تجزیے پر مبنی سیریز کا حصہ دوم ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے حقوق کہاں کھڑے ہیں؟
مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے حقوق کہاں کھڑے ہیں، یہ سوال اب محض نظری یا تعلیمی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑ چکا ہے۔ آج بچے جس ڈیجیٹل ماحول میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ان کے بارے میں فیصلے اکثر ایسے نظام کر رہے ہیں جو ڈیٹا، اندازوں اور خودکار منطق پر کام کرتے ہیں۔ یہ نظام بظاہر غیر جانبدار دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات بچوں کی زندگی، تعلیم اور ذہنی نشوونما پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔
یہ معاملہ دراصل اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ تعلیمی پلیٹ فارمز بچوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہیں، ویڈیو ایپس بچوں کی دلچسپی کے مطابق مواد پیش کرتی ہیں اور آن لائن نظام بچوں کے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان سب میں بچوں کو بہتر تجربہ دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مگر یہ کم ہی پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ فیصلے واقعی بچوں کے بہترین مفاد میں ہیں یا نہیں۔
اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہو رہے ہیں جو کم عمری میں ہی ڈیجیٹل نظاموں سے جڑ جاتے ہیں۔ بچے نہ تو ان نظاموں کی پیچیدگی کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی یہ جان پاتے ہیں کہ ان کے بارے میں کیا معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیسف اس بات پر زور دیتا ہے کہ بچوں کو صرف صارف نہیں بلکہ حقوق رکھنے والے انسان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جن کے تحفظ، نجی زندگی اور ترقی کی ذمہ داری معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب بچوں کی نجی زندگی کا سوال سامنے آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے نظام بچوں کے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، اور یہ ڈیٹا محض نام یا عمر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی عادات، دلچسپیوں، کمزوریوں اور جذباتی ردِعمل تک پھیل جاتا ہے۔ بچے یہ نہیں جانتے کہ یہ معلومات کہاں محفوظ کی جا رہی ہیں، کون انہیں دیکھ رہا ہے اور مستقبل میں ان کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو سکتا ہے۔ یہی لاعلمی بچوں کے حقِ نجی زندگی کو سب سے زیادہ کمزور بناتی ہے۔
یہ سب کچھ کب اور کہاں ہو رہا ہے، اس کا دائرہ کسی ایک وقت یا جگہ تک محدود نہیں۔ گھروں کے اندر، اسکولوں میں، آن لائن پلیٹ فارمز پر اور حتیٰ کہ بعض ریاستی نظاموں میں بھی مصنوعی ذہانت بچوں سے متعلق فیصلوں میں شامل ہو چکی ہے۔ یہ ایک مسلسل اور عالمی عمل ہے، جس کے اثرات خاموشی سے مگر گہرائی کے ساتھ بچوں کی زندگیوں میں سرایت کر رہے ہیں۔
یونیسف اس صورتحال پر اس لیے تشویش ظاہر کرتا ہے کہ بچوں کے حقوق محض تحریری اصول نہیں بلکہ عملی ذمہ داریاں ہیں۔ اگر بچوں کے بارے میں فیصلے مشینوں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان فیصلوں میں شفافیت، جواب دہی اور انسانی نگرانی موجود ہو۔ بصورتِ دیگر، بچوں کو ایسے نظاموں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور جن کے نتائج وہ خود بھگتنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو بچوں کی شمولیت کا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق زیادہ تر فیصلے بالغ افراد، ادارے یا کمپنیاں کرتی ہیں، جبکہ بچوں کی آواز اکثر اس بحث میں شامل ہی نہیں ہوتی۔ یونیسف کے مطابق اگر ٹیکنالوجی واقعی بچوں کے لیے بنانی ہے تو بچوں کو یہ سمجھنے کا موقع دینا ہو گا کہ یہ نظام کیسے کام کرتے ہیں، اور انہیں اپنی رائے دینے اور سوال اٹھانے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ بچوں کو نظرانداز کر کے بنائی گئی ٹیکنالوجی بچوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ نظام کس طرح عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں۔ چونکہ مصنوعی ذہانت ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے، اس لیے وہی بچے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پہلے ہی بہتر وسائل تک رسائی رکھتے ہیں۔ زبان، معذوری، غربت یا سماجی پس منظر کے فرق کو نظرانداز کرنے والے الگورتھم بعض بچوں کو غیر ارادی طور پر پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ اس طرح مصنوعی ذہانت بچوں کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کے بجائے بعض اوقات مزید گہرا کر دیتی ہے۔
یہاں ذمہ داری کا سوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اگر کسی خودکار نظام کے فیصلے سے بچے کو نقصان پہنچے تو جواب دہ کون ہو گا؟ کیا یہ ذمہ داری والدین پر ڈال دی جائے، یا اسکولوں پر، یا پھر ان کمپنیوں پر جنہوں نے یہ نظام تیار کیے؟ یونیسف کی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ بچوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ طاقت اور اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔
یہ حصہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے حقوق کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی چیلنج ہیں۔ ریاستوں، اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر ایسے نظام بنانے ہوں گے جو بچوں کے تحفظ، نجی زندگی اور مساوی مواقع کو یقینی بنائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت ترقی تو کرے گی، مگر اس ترقی کی قیمت بچے ادا کریں گے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے حقوق واقعی کہاں کھڑے ہیں، اور کیا ہم انہیں اس تیزی سے بدلتی دنیا میں وہ جگہ دے پا رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگلی قسط میں اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ دیکھا جائے گا کہ عملی سطح پر کن ضابطوں اور اقدامات کے ذریعے بچوں کو مصنوعی ذہانت کے ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکتا ہے۔

