اے آئی سے بنی تصاویر پر کس کا حق ہوگا؟ امریکی عدالت میں اہم قانونی بحث
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے ترقی نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا کو بدل دیا ہے بلکہ قانون، تخلیقی صنعتوں اور دانشورانہ ملکیت جیسے شعبوں میں بھی نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال اب زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی تخلیقی کام مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کیا جائے تو اس کا مالک کون ہوگا؟ کیا ایسی تخلیق کو کاپی رائٹ مل سکتا ہے؟ یا پھر قانون اب بھی صرف انسان کو ہی تخلیق کار تسلیم کرتا ہے؟ حال ہی میں امریکہ میں سامنے آنے والا ایک مقدمہ اسی سوال کے گرد گھومتا رہا اور اس نے دنیا بھر میں اے آئی اور قانون کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ معاملہ امریکی ریاست میسوری کے ایک کمپیوٹر سائنس دان اسٹیفن تھالر سے متعلق ہے، جو کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت کے تجربات اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ اسٹیفن تھالر نے دعویٰ کیا کہ ان کے تیار کردہ اے آئی نظام DABUS نے ایک بصری آرٹ ورک خود تخلیق کیا ہے۔ اس تصویر کا نام “A Recent Entrance to Paradise” رکھا گیا تھا۔ اس تصویر میں ایک ایسا منظر دکھایا گیا تھا جس میں ریلوے کی پٹریاں ایک پراسرار دروازے یا سرنگ کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ اردگرد سبز اور جامنی رنگ کی شکلیں کسی پودوں یا قدرتی مناظر کی یاد دلاتی ہیں۔ تھالر کے مطابق اس تصویر کی تخلیق میں کسی انسان نے براہِ راست حصہ نہیں لیا بلکہ یہ مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تیار ہوئی۔
اسٹیفن تھالر نے اس تصویر کے لیے 2018 میں امریکی کاپی رائٹ آفس میں باضابطہ درخواست دی تاکہ اس تخلیق کو قانونی تحفظ مل سکے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ایک اے آئی نظام کسی نئے اور منفرد خیال کو تخلیق کر سکتا ہے تو اس تخلیق کو بھی وہی قانونی تحفظ ملنا چاہیے جو کسی انسانی فنکار کی تخلیق کو ملتا ہے۔ تاہم امریکی کاپی رائٹ آفس نے 2022 میں ان کی درخواست مسترد کر دی۔ ادارے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکی قانون کے مطابق کاپی رائٹ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے جب کسی تخلیق کے پیچھے ایک انسانی مصنف یا تخلیق کار موجود ہو۔
کاپی رائٹ آفس کے اس فیصلے کے بعد اسٹیفن تھالر نے عدالت سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے وکلا نے عدالت میں یہ مؤقف پیش کیا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تخلیقی صلاحیت صرف انسان تک محدود نہیں رہی اور اگر قانون اس تبدیلی کو تسلیم نہیں کرے گا تو تخلیقی صنعتوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
لیکن 2023 میں واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے کاپی رائٹ آفس کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کاپی رائٹ قانون کی بنیاد ہی اس تصور پر قائم ہے کہ کسی تخلیق کے پیچھے ایک انسانی ذہن موجود ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق یہی اصول کاپی رائٹ کے پورے نظام کی بنیاد ہے۔ بعد ازاں اس فیصلے کو امریکی عدالتِ اپیل برائے ڈی سی سرکٹ نے بھی 2025 میں برقرار رکھا۔
اس کے بعد اسٹیفن تھالر نے آخری امید کے طور پر امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا خیال تھا کہ شاید سپریم کورٹ اس اہم قانونی سوال پر غور کرے گی کیونکہ دنیا بھر میں جنریٹیو اے آئی کی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے۔ لیکن مارچ 2026 میں سپریم کورٹ نے اس اپیل کو سننے سے انکار کر دیا۔ عدالت کی جانب سے اپیل نہ سننے کا مطلب یہ ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رہیں گے اور موجودہ قانون کے مطابق اے آئی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہونے والی تخلیقات کو کاپی رائٹ حاصل نہیں ہوگا۔
اس مقدمے نے ایک بڑی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ آج اے آئی نہ صرف تصاویر بلکہ موسیقی، ویڈیوز، تحریری مواد اور کمپیوٹر کوڈ بھی تیار کر سکتی ہے۔ بہت سے فنکار اور تخلیق کار اے آئی ٹولز کی مدد سے اپنی تخلیقات تیار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر Midjourney اور دیگر جنریٹو اے آئی ٹولز کے ذریعے بنائی گئی تصاویر سوشل میڈیا اور تخلیقی پلیٹ فارمز پر بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کوئی تصویر یا تحریر اے آئی کے ذریعے بنائی جائے تو اس کا اصل تخلیق کار کون ہوگا؟ کیا وہ شخص جو اے آئی ٹول استعمال کر رہا ہے؟ یا وہ کمپنی جس نے اے آئی سسٹم بنایا؟ یا پھر قانون کے مطابق اس پر کسی کا حق نہیں ہوگا؟
امریکی کاپی رائٹ آفس اس معاملے پر پہلے ہی کئی فیصلے دے چکا ہے۔ ادارے نے بعض ایسے فنکاروں کی درخواستیں بھی مسترد کی ہیں جنہوں نے اے آئی کی مدد سے تصاویر بنائی تھیں لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ تخلیقی عمل میں انسان کا کردار کتنا تھا۔ تاہم اگر کسی تخلیق میں انسانی تخلیقی عمل نمایاں ہو اور اے آئی صرف ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوئی ہو تو بعض صورتوں میں کاپی رائٹ دیا جا سکتا ہے۔
اسٹیفن تھالر کے مقدمے کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے خود یہ مؤقف اختیار کیا کہ تصویر مکمل طور پر اے آئی نے بنائی ہے اور انسان نے اس میں تخلیقی کردار ادا نہیں کیا۔ یہی بات ان کے مقدمے کی کمزوری بھی بن گئی کیونکہ موجودہ قانون میں کاپی رائٹ کے لیے انسانی تخلیق کار کو بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔
یہ معاملہ صرف کاپی رائٹ تک محدود نہیں ہے۔ اسٹیفن تھالر اس سے پہلے بھی ایک اور قانونی مقدمہ لڑ چکے ہیں جس میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ایجادات کو پیٹنٹ دیا جانا چاہیے۔ تاہم امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی اور عدالتوں نے اس فیصلے کو بھی برقرار رکھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت زیادہ طاقتور اور تخلیقی بنتی جا رہی ہے، ویسے ویسے دانشورانہ ملکیت کے قوانین کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ موجودہ قوانین اس وقت بنائے گئے تھے جب تخلیقی عمل کو مکمل طور پر انسانی صلاحیت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج اے آئی ایسے کام بھی کر رہی ہے جو پہلے صرف انسانوں سے منسوب کیے جاتے تھے۔
اسی وجہ سے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ نئے قوانین میں اے آئی کے کردار کو بھی مدنظر رکھا جائے یا ایسے اصول بنائے جائیں جو انسان اور اے آئی کے مشترکہ تخلیقی عمل کو قانونی تحفظ دے سکیں۔
فی الحال تاہم امریکی عدالتوں کا مؤقف واضح ہے۔ موجودہ قانون کے تحت کاپی رائٹ کے لیے انسانی تخلیق کار کا ہونا ضروری ہے۔ اسٹیفن تھالر کا مقدمہ اس بحث کو ختم نہیں کرتا بلکہ شاید اسے مزید آگے بڑھاتا ہے۔ آنے والے برسوں میں جب اے آئی مزید ترقی کرے گی تو یہ سوال دوبارہ عدالتوں اور قانون ساز اداروں کے سامنے آ سکتا ہے کہ تخلیقی دنیا میں انسان اور مشین کے کردار کو کس طرح متعین کیا جائے۔
No Comments