میتھیو میک کوناہی نے اپنی آواز رجسٹر کیوں کروائی؟ کیا آواز بھی چوری ہو سکتی ہے؟
ہالی وڈ کے مشہور اداکار میتھیو میک کوناہی نے حال ہی میں ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو آنے والے وقت میں فلمی دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی آواز اور شکل و صورت کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ٹریڈ مارک کروا لیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بڑے فلمی ستارے نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس طرح کا اقدام کیا ہو۔ میتھیو میک کوناہی کا سب سے مشہور جملہ الرائٹ، الرائٹ، الرائٹ ہے جو انہوں نے 1993 میں آنے والی فلم ڈیزڈ اینڈ کنفیوزڈ میں ادا کیا تھا۔ یہ تین الفاظ اتنے مقبول ہو گئے کہ آج بھی جب لوگ میتھیو میک کوناہی سے ملتے ہیں تو ان سے یہی جملہ سننا چاہتے ہیں۔ اب اس جملے کو، اور ان کی آواز کی دیگر کلپس کو، امریکہ کے پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس میں رجسٹر کروا دیا گیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، میتھیو میک کوناہی کے وکلاء نے بتایا کہ ابھی تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جہاں کسی نے ان کی آواز یا تصویر کا مصنوعی ذہانت سے غلط استعمال کیا ہو۔ لیکن وہ پہلے سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی ایسا نہ کر سکے۔ میتھیو میک کوناہی کے وکیل کیون یورن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کمپنی ان کی آواز یا شکل استعمال کر کے پیسے کمائے تو اس میں سے کچھ حصہ خود میتھیو میک کوناہی کو بھی ملے۔ آخرکار یہ ان کی اپنی شخصیت ہے اور اس پر ان کا ہی حق بنتا ہے۔
خود میتھیو میک کوناہی نے ای میل میں لکھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جب بھی ان کی آواز یا تصویر کہیں استعمال ہو، تو یہ صرف ان کی منظوری سے ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اجازت لینا اور یہ بتانا کہ آواز کس کی ہے، یہ معمول کی بات ہونی چاہیے۔ یہ تمام کاغذی کارروائی میتھیو میک کوناہی اور ان کی بیوی کیملا کی بنائی ہوئی تنظیم “جسٹ کیپ لیون فاؤنڈیشن” کے تجارتی حصے نے کی ہے۔ یہ فاؤنڈیشن اصل میں نوجوانوں کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے لیکن اب اس نے اداکار کے حقوق کی حفاظت کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
لندن کی یونیورسٹی کالج میں کاپی رائٹ قانون کی استاد الینا ٹراپووا آٹھ سال سے مصنوعی ذہانت اور کاپی رائٹ کے مسائل پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی اداکار نے اس طریقے سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہو۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت مشہور لوگوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کی تصویروں کا غلط استعمال نہ صرف ان کی عزت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ان کے کاروبار کو بھی۔ ٹراپووا کہتی ہیں کہ ہالی وڈ کے ستاروں کے لیے یہ پیسے کا معاملہ بھی ہے۔ اگر کوئی کمپنی قانونی طریقے سے کسی اداکار کی آواز استعمال کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے لاکھوں ڈالر دینے کو تیار ہوتی ہے۔ لیکن اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوئی بھی مفت میں ایسا کر سکتا ہے۔ اسی لیے مشہور لوگ مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میتھیو میک کوناہی مصنوعی ذہانت کے بالکل خلاف نہیں ہیں۔ وہ “الیون لیبز” نامی ایک کمپنی میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں جو مصنوعی ذہانت سے آوازیں بناتی ہے۔ 56 سالہ اداکار نے بتایا کہ وہ کئی سال سے اس کمپنی میں حصہ دار ہیں۔ اس کمپنی نے خود ان کی آواز کا ایک ڈیجیٹل ورژن بنایا ہے، لیکن یہ کام ان کی مکمل اجازت سے کیا گیا۔ یعنی میتھیو میک کوناہی کا موقف یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بری نہیں، لیکن اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا چاہیے اور لوگوں سے اجازت لینی چاہیے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر سینڈرا واچٹر کا خیال ہے کہ مستقبل میں بہت سے فنکار میک کناہی کی طرح یہی کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے لیے کسی کا کام چرا کر مصنوعی ذہانت کو سکھانا بہت آسان ہے، لیکن لوگوں کے لیے اپنے کام کو بچانا بہت مشکل۔ مصنوعی ذہانت سے بننے والی جعلی تصاویر اور ویڈیوز اب فلمی دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ 2024 میں مشہور اداکارہ اسکارلیٹ جوہانسن کے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا۔ اوپن اے آئی نامی کمپنی نے ایک چیٹ بوٹ بنایا جس کی آواز بالکل اداکارہ جیسی تھی۔ اسکارلیٹ بہت ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ ان کی آواز کی نقل ہے۔ کمپنی نے بعد میں وہ آواز ہٹا دی اور کہا کہ یہ جان بوجھ کر نقل نہیں تھی، لیکن نقصان تو ہو چکا تھا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی طاقتور ہو چکی ہے اور اسے کتنی آسانی سے غلط طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جون 2025 میں ڈزنی اور یونیورسل جیسی بڑی کمپنیوں نے مل کر “مڈجرنی” کمپنی کے خلاف عدالت میں مقدمہ کر دیا۔ یہ کمپنی مصنوعی ذہانت سے تصاویر بناتی ہے۔ ہالی وڈ کی کمپنیوں نے الزام لگایا کہ یہ پروگرام ان کے کرداروں اور تصاویر کو چوری کر کے استعمال کرتا ہے۔
مشہور گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے ساتھ بھی ایک بہت ہی تکلیف دہ واقعہ ہوا۔ ایلون مسک کی سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پروگرام نے خود بخود ٹیلر کی نامناسب اور جعلی ویڈیوز بنا دیں، حالانکہ کسی نے ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔ اس پروگرام کا نام “گروک امیجن” ہے اور اس میں ایک خاص موڈ ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے ایسی چیزیں بنا دیتا ہے۔
دی ورج نامی ویب سائٹ نے بتایا کہ یہ پروگرام بالکل بے شرمی سے ٹیلر سوئفٹ کی مکمل طور پر فحش ویڈیوز بناتا رہا۔ بعد میں لوگوں کی شکایات کے بعد ایکس نے اس پروگرام کو روکا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن اس کو کنٹرول کرنے والے قوانین بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ میتھیو میک کوناہی کا یہ قدم شاید دوسرے فنکاروں کے لیے راستہ بنا دے کہ وہ کس طرح اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ یہ صرف فلمی ستاروں کا مسئلہ نہیں۔ آج کل ہر کسی کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ کل کو کوئی بھی شخص ان کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ اسی لیے قوانین بنانا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔
اگر میتھیو میک کوناہی کا یہ طریقہ کامیاب رہا تو آنے والے دنوں میں مزید اداکار، گلوکار اور دوسرے مشہور لوگ بھی یہی کریں گے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن بنانا انتہائی اہم ہے۔ میک کناہی کی کوشش شاید ایک نیا راستہ دکھائے جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال احترام اور ذمہ داری کے ساتھ ہو، نہ کہ دھوکے اور چوری کے ساتھ۔۔
No Comments