Site icon Urdu Ai

چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ: یہ کن لوگوں کے لیے ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ: یہ کن لوگوں کے لیے ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ: یہ کن لوگوں کے لیے ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ: یہ کن لوگوں کے لیے ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

آج کے زمانے میں صحت کا مسئلہ صرف بیماری تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اس بات سے بھی جُڑ گیا ہے کہ انسان اپنی صحت کو سمجھ کیسے رہا ہے۔ عام طور پر لوگوں کے پاس رپورٹس تو ہوتی ہیں، مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان رپورٹس کا مطلب کیا ہے۔ کسی کے پاس خون کے ٹیسٹ کی فائل ہے، کسی کے موبائل میں نیند اور قدموں کا حساب محفوظ ہے، اور کسی نے اپنی خوراک ایک ایپ میں لکھ رکھی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ معلومات نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ معلومات ایک جگہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی آسان زبان میں سمجھائی جاتی ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہیلتھ کے نام سے چیٹ جی پی ٹی کا نیا تجربہ سامنے آتا ہے۔

یہاں سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہیلتھ آخر ہے کیا۔ سادہ الفاظ میں، یہ چیٹ جی پی ٹی کے اندر ایک الگ اور محفوظ جگہ ہے جہاں انسان اپنی صحت اور روزمرہ فلاح سے متعلق سوالات پوچھ سکتا ہے۔ یہ کوئی ڈاکٹر نہیں، نہ یہ دوا تجویز کرتا ہے اور نہ ہی بیماری کی تشخیص کرتا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ جو معلومات پہلے سے موجود ہیں، جیسے رپورٹس، عادات اور ڈیٹا، انہیں عام فہم زبان میں سمجھایا جائے۔ اس تجربے کو اوپن اے آئی نے تیار کیا ہے، تاکہ عام لوگ پیچیدہ طبی زبان کے بغیر اپنی صحت کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سہولت کس کے لیے ہے۔ اس کا جواب بہت سیدھا ہے: یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اپنی صحت کے بارے میں فکرمند ہے، لیکن طبی زبان یا ٹیکنالوجی کو اچھی طرح نہیں سمجھتا۔ مثال کے طور پر ایک ایسا شخص جو سال میں ایک بار چیک اپ کرواتا ہے اور رپورٹ ہاتھ میں لے کر سوچتا ہے کہ اب اس کا کیا کرے۔ یا وہ ماں جو بچے کی پیدائش کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا چاہتی ہے مگر ڈرتی ہے کہ کہیں غلط قدم نہ اٹھا لے۔ یا وہ نوجوان جو وزن کم کرنا چاہتا ہے لیکن اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے آغاز کرے۔ کمپنی کے مطابق ہر ہفتے دنیا بھر میں تقریباً 23 کروڑ افراد چیٹ جی پی ٹی پر صحت اور فلاح سے متعلق سوالات کرتے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ صحت سے متعلق الجھن ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

یہاں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ ہیلتھ کیوں متعارف کرایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صحت کی معلومات حد سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہزاروں مشورے موجود ہیں، مگر ان میں سے بہت سا مواد یا تو مشکل زبان میں ہے یا پھر ایک دوسرے سے مختلف باتیں کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک ہی شخص کا صحت سے متعلق ڈیٹا مختلف جگہوں پر بکھرا ہوتا ہے۔ نیند اور قدموں کا حساب موبائل یا گھڑی میں، خوراک کا ریکارڈ کسی اور ایپ میں، اور لیب رپورٹس ہسپتال کے پورٹل یا پی ڈی ایف فائل میں ان سب کو جوڑ کر سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ ہیلتھ اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے، تاکہ یہ تمام معلومات ایک جگہ آ جائیں اور آسان انداز میں سمجھائی جا سکیں۔

یہ تجربہ کہاں دستیاب ہے، اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فی الحال یہ چیٹ جی پی ٹی کے اندر منتخب صارفین کو دیا جا رہا ہے۔ فری، پلس، گو اور پرو پلان استعمال کرنے والے کچھ لوگوں کو ابتدائی طور پر اس تک رسائی ملی ہے۔ تاہم یورپی یونین، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ میں یہ سہولت ابھی دستیاب نہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تجربہ بہتر ہوتا جائے گا، ویسے ویسے اسے مزید ممالک اور صارفین تک پھیلایا جائے گا، خاص طور پر ویب اور آئی فون پر۔

اگر یہ پوچھا جائے کہ یہ سہولت کب سامنے آئی، تو اس کا پس منظر پچھلے چند برسوں سے جُڑا ہے۔ اس دوران چیٹ جی پی ٹی پر صحت سے متعلق سوالات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کی رپورٹس کا مطلب کیا ہے، وہ ڈاکٹر سے ملاقات سے پہلے کن سوالات کی تیاری کریں، یا روزمرہ زندگی میں اپنی صحت کو کیسے بہتر بنائیں۔ اسی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ صحت کے لیے ایک الگ اور محفوظ جگہ بنائی جائے، جہاں اضافی رازداری اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی طرف، یعنی یہ نظام کیسے کام کرتا ہے، اور کیا عام آدمی اسے بغیر کسی تکنیکی علم کے استعمال کر سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے: جی ہاں، بالکل۔ ہیلتھ کو خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ غیر تکنیکی لوگ بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکیں۔ صارف بس عام زبان میں سوال پوچھ سکتا ہے، جیسے وہ کسی دوست سے بات کر رہا ہو۔ اگر وہ چاہے تو اپنی کچھ ایپس بھی اس کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر Apple Health کو شامل کرنے سے نیند، چلنے پھرنے اور سرگرمی سے متعلق معلومات خود بخود گفتگو کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اسی طرح MyFitnessPal کے ذریعے کھانے پینے کا حساب سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں کچھ صارفین اپنے طبی ریکارڈ بھی محفوظ طریقے سے شامل کر سکتے ہیں، جس کے لیے b.well کے ساتھ شراکت داری کی گئی ہے۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ صارف کی مرضی سے ہوتا ہے، اور وہ جب چاہے یہ معلومات ہٹا بھی سکتا ہے۔

لوگوں کے ذہن میں اکثر یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی ذاتی معلومات کہیں غلط استعمال نہ ہو جائیں۔ اسی لیے ہیلتھ میں رازداری کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ صحت سے متعلق گفتگو عام چیٹس سے الگ رکھی جاتی ہے اور اسے محفوظ طریقے سے رکھا جاتا ہے۔ یہ معلومات چیٹ جی پی ٹی کو سکھانے یا ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں ہوتیں۔ صارف اپنی محفوظ کی گئی معلومات کو دیکھ بھی سکتا ہے، تبدیل بھی کر سکتا ہے اور مکمل طور پر حذف بھی کر سکتا ہے۔ مزید تحفظ کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، تاکہ کوئی اور شخص غلطی سے بھی اس ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہیلتھ صرف کمپیوٹر ماہرین کا بنایا ہوا نظام نہیں۔ اس کی تیاری میں دنیا بھر کے 260 سے زیادہ ڈاکٹروں نے حصہ لیا ہے، جن کا تعلق 60 سے زائد ممالک سے ہے۔ ان ڈاکٹروں نے لاکھوں مرتبہ جوابات کا جائزہ لیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ معلومات آسان ہوں، خوف پیدا نہ کریں، اور جہاں واقعی ضرورت ہو وہاں صارف کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا واضح مشورہ دیا جائے۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ عام آدمی خود تشخیص کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھائے۔

روزمرہ زندگی میں ہیلتھ کے استعمال کی کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ کوئی شخص سالانہ چیک اپ سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی رپورٹ میں کون سی بات اہم ہے۔ کوئی عورت بچے کی پیدائش کے بعد یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ ورزش کب اور کیسے شروع کی جائے۔ کوئی نوجوان یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی نیند کم کیوں ہو رہی ہے اور اس کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ ہیلتھ ان تمام سوالات میں معلومات کو جوڑ کر ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے، تاکہ صارف کو یہ احساس ہو کہ وہ اکیلا نہیں ہے اور اس کی الجھن قابلِ فہم ہے۔

یہاں یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ ہیلتھ کسی ڈاکٹر کا متبادل نہیں۔ یہ نہ دوا تجویز کرتا ہے اور نہ ہی علاج کرتا ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا ڈیجیٹل ساتھی ہے جو عام آدمی کو مشکل طبی زبان اور پیچیدہ رپورٹس سے نکال کر سادہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے دور میں، جہاں معلومات کی کمی نہیں بلکہ زیادتی مسئلہ بن چکی ہے، ہیلتھ لوگوں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنی صحت کو آسان زبان میں سمجھ سکیں، بہتر سوال پوچھ سکیں اور زیادہ پُراعتماد فیصلے کر سکیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہیلتھ اس بات کی ایک مثال ہے کہ ٹیکنالوجی کو اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ عام انسان کی زندگی کو آسان بنا سکتی ہے۔ یہ نظام نہ صرف معلومات کو ایک جگہ لاتا ہے بلکہ انہیں اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ غیر تکنیکی لوگ بھی اپنی صحت کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کر سکیں۔ مستقبل میں جیسے جیسے اس تجربے میں بہتری آئے گی، یہ امکان ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکیں گے اور ڈاکٹر اور مریض کے درمیان گفتگو بھی بہتر ہو گی۔

Exit mobile version