یونیسف کی رپورٹ کی روشنی میں: مصنوعی ذہانت اور بچے
حصہ سوم :
یہ مضمون مصنوعی ذہانت اور بچوں سے متعلق یونیسف کی عالمی رپورٹ کے تجزیے پر مبنی سیریز کا حصہ سوم اور آخری حصہ ہے۔
بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت کیسے ممکن ہے؟
اس سیریز کے پہلے حصے میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی بچوں کے حق میں استعمال ہو رہی ہے اور یونیسف کی رپورٹ اس حوالے سے کن خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسرے حصے میں اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ دیکھا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کے حقوق، نجی زندگی اور تحفظ کہاں کھڑے ہیں، اور کس طرح خودکار نظام بچوں کے بارے میں فیصلے کر رہے ہیں۔ اب اس سیریز کے آخری حصے میں توجہ اس سب سے اہم اور عملی سوال پر مرکوز ہے کہ بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت آخر کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے، اور اس کے لیے ریاستوں، اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کن ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت کیسے ممکن ہے، یہ سوال اس پوری بحث کا سب سے عملی اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اب معاملہ یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت بچوں کو متاثر کر رہی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس اثر کو کس طرح بچوں کے حق میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ یونیسف کی رپورٹ اس نکتے سے آغاز کرتی ہے کہ تحفظ اتفاقاً حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے شعوری فیصلے، واضح اصول اور مسلسل نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ محفوظ مصنوعی ذہانت سے مراد کیا ہے۔ اس کا مطلب ایسا ڈیجیٹل نظام ہے جو بچوں کو نقصان سے بچائے، ان کی نجی زندگی کا احترام کرے، ان کی عمر اور ذہنی نشوونما کو مدنظر رکھے اور ان کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں میں انسانی نگرانی کو یقینی بنائے۔ ایسا نظام جو بچوں کو صرف ڈیٹا کے ذرائع کے طور پر نہ دیکھے بلکہ ایسے افراد کے طور پر تسلیم کرے جن کے حقوق اور حدود واضح ہیں۔
یہ ذمہ داری سب سے بڑھ کر کن پر عائد ہوتی ہے، اس کا جواب یونیسف واضح انداز میں دیتا ہے۔ ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے قوانین اور ضابطے بنائیں جو بچوں کو نقصان دہ خودکار نظاموں سے تحفظ فراہم کریں۔ اگر حکومتیں اس ذمہ داری سے پیچھے ہٹتی ہیں تو بچوں کی زندگی پر اثر انداز ہونے والے فیصلے مکمل طور پر نجی اداروں یا الگورتھمز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یونیسف اسی لیے بچوں کے حقوق پر مبنی قانون سازی اور آزاد نگرانی کے نظام پر زور دیتا ہے۔
یہ اقدامات کب ضروری ہو گئے ہیں، اس کا تعلق مصنوعی ذہانت کی رفتار سے ہے۔ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ قوانین اور اخلاقی اصول اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یونیسف خبردار کرتا ہے کہ اگر ضابطہ سازی میں مزید تاخیر ہوئی تو بعد میں نقصانات کی تلافی ممکن نہیں رہے گی، کیونکہ بچے پہلے ہی ان نظاموں کے اثر میں آ چکے ہیں۔
یہ مسئلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے، اس کا دائرہ عالمی ہے۔ اسکولوں میں استعمال ہونے والے تعلیمی سافٹ ویئر سے لے کر گھروں میں موجود تفریحی ایپس تک، اور آن لائن پلیٹ فارمز سے لے کر بعض ریاستی نظاموں تک، ہر جگہ مصنوعی ذہانت بچوں سے متعلق فیصلوں میں شامل ہو رہی ہے۔ اس لیے یونیسف اس مسئلے کو کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔
یونیسف اس بات پر خاص زور دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں کی ذمہ داری محض قانون پر عمل تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت اسی وقت ممکن ہے جب کمپنیوں کے ڈیزائن کے ابتدائی مرحلے میں ہی بچوں کے حقوق کو شامل کیا جائے۔ عمر کے مطابق ڈیزائن، خودکار نظاموں میں انسانی نگرانی، اور نقصان کی صورت میں فوری مداخلت کے طریقے ایسے عناصر ہیں جن کے بغیر کسی نظام کو محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔
اس کے ساتھ ساتھ شفافیت بھی ایک بنیادی شرط ہے۔ بچوں اور والدین کو یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ کوئی نظام کیسے کام کرتا ہے، کس بنیاد پر فیصلے کرتا ہے اور کن معلومات کو استعمال کرتا ہے۔ اگر الگورتھمز ناقابلِ فہم اور ناقابلِ سوال ہوں تو بچوں کے لیے ان سے تحفظ ممکن نہیں رہتا۔ یونیسف اسی لیے قابلِ فہم اور وضاحت کے قابل نظاموں کی سفارش کرتا ہے۔
محفوظ مصنوعی ذہانت کا ایک اہم پہلو بچوں کی شمولیت بھی ہے۔ بچوں کو صرف تحفظ کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں یہ سمجھنے کا حق بھی ہے کہ ان کی ڈیجیٹل دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ یونیسف کے مطابق بچوں کو عمر کے مطابق معلومات فراہم کرنا، ان کی رائے سننا اور ان کے تجربات کو پالیسی سازی میں شامل کرنا محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی بنیاد رکھتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر کوئی خودکار نظام بچے کو نقصان پہنچائے تو جواب دہ کون ہو گا۔ یونیسف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ذمہ داری بچوں یا والدین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ جواب دہی ریاستوں، اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد ہونی چاہیے، کیونکہ اختیار اور طاقت انہی کے پاس ہوتی ہے۔ جواب دہی کے بغیر تحفظ کا کوئی نظام مؤثر نہیں ہو سکتا۔
یہ حصہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی، قانونی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ اگر بچوں کے حقوق کو مرکز میں رکھ کر ضابطے بنائے جائیں، ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ ڈیزائن کیا جائے اور شفافیت و جواب دہی کو یقینی بنایا جائے تو مصنوعی ذہانت بچوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع بن سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سیریز اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہے۔ یونیسف کی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت مستقبل کا سوال نہیں بلکہ حال کی ضرورت ہے۔ اگر آج درست فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایسے نظاموں کے حوالے ہوں گی جو ان کے لیے نہیں بنائے گئے۔ بچوں کے لیے محفوظ مصنوعی ذہانت اسی وقت ممکن ہے جب ہم یہ تسلیم کریں کہ بچوں کا تحفظ ٹیکنالوجی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی کو بچوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

